ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹک حجاب معاملہ: کرناٹک ہائی کورٹ نے مسلم طالبات کو دیا بڑا جھٹکا، کہا؛ حجاب اسلام کا لازمی جُزو نہیں

کرناٹک حجاب معاملہ: کرناٹک ہائی کورٹ نے مسلم طالبات کو دیا بڑا جھٹکا، کہا؛ حجاب اسلام کا لازمی جُزو نہیں

Tue, 15 Mar 2022 10:55:13    S.O. News Service

بنگلورو، 15؍ مارچ (ایس او نیوز) حجاب کو لے کر  اپنا فیصلہ سناتے ہوئے  کرناٹک ہائی کورٹ نے آج مسلم طالبات کو بڑا جھٹکا دیا ہے اور مسلم لڑکیوں کی طرف سے دائر کی گئی تمام عرضیوں کو خارج کرتے ہوئے کہا ہے کہ حجاب اسلام کا  لازمی جزو نہیں ہے۔

یاد رہے کہ  مسلم لڑکیوں نے  کرناٹک ہائی کورٹ میں عرضی داخل کرتے ہوئے اسکول اور کالج میں حجاب پہننے کی اجازت مانگی تھی اور  5/ فروری کے سرکاری حکم کو چیلنج کیا تھا، جس  پر عدالت نے سماعت کے  بعد آج منگل کو اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ  حجاب اسلام کا لازمی جزو نہیں ہے۔ کئی دنوں کے احتجاج، مظاہروں، الزامات، جوابی الزامات اور بیک ٹو بیک سماعتوں کے بعد مسلم  طالبات کو  عدالت کے فیصلے کا بے صبری سے انتظار تھا اور طالبات کو اُمید تھی کہ فیصلہ اُن کے حق میں آئے گا، مگر تازہ رویہ   سے نہ صرف مسلم طالبات بلکہ پوری مسلم کمیونٹی میں مایوسی چھاگئی ہے۔ بتاتے چلیں کہ عدالت کے فیصلے کے انتظار میں سیکڑوں مسلم طالبات نے اپنے امتحانات بھی نہیں دئے ہیں جس کو لے کر مسلم طالبات کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

 کیا  ہے اصل معاملہ؟31 ڈسمبر کو  میڈیا میں نیوز چھپی کہ  ساحلی کرناٹکا کے شہر اُڈپی میں سرکاری ویمنس  پری یونیورسٹی کالج کی چھ مسلم باحجاب طالبات  کو تین دن سے کلاس  میں جانے کی اجازت نہیں ہے اور وہ کلاس کے باہر ہی  وقت ضائع کررہی ہیں،  طالبات نے میڈیا والوں کو بتایا تھا کہ  انہیں اچانک کلاس جانے سے روکا گیا  اور  کالج پرنسپال  نے حجاب اُتارنے کا حکم دیا ،  طالبات  کا کہنا تھا کہ وہ ابتدا سے ہی حجاب کے ساتھ کلاسس اٹینڈ کررہی تھیں، مگر کالج کے پرنسپال نے اچانک اُنہیں  حجاب اُتارنے کے لئے کہا ہے جس پر وہ  احتجاج پر اُترآئیں اور حجاب کے بغیر کلاس جانے سے انکار کردیا۔  کالج ڈیولپمنٹ کمیٹی کے صدر  رگھوپتی بھٹ جو اُڈپی کے رکن اسمبلی ہیں اور اُن کا تعلق بی جے پی سے ہےنے کہا تھا کہ جو طلبا احتجاج کر رہے ہیں اور کیمپس کے باہر بیٹھے ہیں وہ کالج چھوڑنے کے لیے آزاد ہیں۔

ایم ایل اے نے کہا کہ اُنہیں  ٹرانسفر سرٹیفکیٹ (TC) دیا جائے گا اور وہ کسی بھی کالج میں جا  کر اپنی تعلیم مکمل کرسکتے ہیں ،لیکن ہم اپنے کلاس روم میں حجاب  پہن کر اندر جانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ معاملہ جب بڑھا تو  26 جنوری کو کرناٹک حکومت نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک کمیٹی قائم کی اور اس بات کا اعلان کیا  کہ تمام لڑکیوں کو یکساں قوانین پر عمل کرنا چاہیے جب تک کہ کوئی کمیٹی اپنی سفارشات پیش نہ کرے۔

دریں اثنا اُڈپی کی طالبات نے کرناٹک ہائی کورٹ میں عرضی  داخل  کرتے ہوئے  عدالت کو بتایا کہ حجاب پہننا اُن کا  بنیادی حق ہے۔ درخواست میں کہا گیا کہ ہندوستانی آئین ضمیر کی آزادی اور مذہب کا دعویٰ کرنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کے حق کی ضمانت دیتا ہے۔

اس دوران  3 جنوری کو کرناٹک کے کوپا ضلع  کی ایک  کالج  میں بعض  طلبا  نے زعفرانی اسکارف پہن کر مسلم لڑکیوں کے  حجاب پہننے  پر اعترض کیا، پھر  6 جنوری کو منگلورو کے کالجوں میں بھی اسی طرح کا احتجاج  کیا گیا اور باحجاب طالبات کو  کلاسس میں جانے  کی اجازت نہ دینے کا مطالبہ کیا گیا۔

مگر جب 3 فروری کو کنداپور کالج پرنسپال نے  خود کالج کیمپس کی گیٹ پر آکر سرکاری  ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے لڑکیوں کو گیٹ  کے باہر ہی روک دیا تو معاملہ گرما گیا اورکالج  گیٹ  مسلم طالبات کے لئے بند کئے جانے پر حجاب کا معاملہ   پوری نیشنل میڈیا پر چھا گیا۔ اس کے بعد ریاست کے مختلف علاقوں سے  باحجاب طالبات کے لئے کالج کے دروازے بند کرنے کے واقعات سامنے آنے لگے اور باحجاب طالبات نے حجاب اُتارنے سے انکار کرنے اور کالج گیٹ کے باہر ہی احتجاج پر بیٹھنے کی وارداتیں پیش آئیں۔ اس موقع پر  حجاب مخالف بعض  طلبہ بھی زعفرانی شالیں پہن کر کالج آنے اورحجاب کی کھلم کھلا مخالفت کرنے  کی وارداتیں بھی  پیش آئیں۔

ایسے میں ایک طرف  کرناٹک حکومت نے اسکولوں اور کالجوں میں مساوات، سالمیت اور امن عامہ کو خراب کرنے والے کپڑوں پر پابندی کا حکم دیا اور کرناٹک ایجوکیشن ایکٹ 1983 کے 133 (2) کو لاگو کرنے کی بات کہی، وہیں ہائی کورٹ  کی توسیعی بینچ نے بھی 10 فروری کو  اپنا عبوری فیصلہ سناتے ہوئے حجاب پر پابندی عائد کردی اور حکم دیا کہ حتمی فیصلہ آنے تک   کوئی  بھی اسٹوڈینٹس  کسی بھی مذہبی لباس کے ساتھ کلاسس  میں داخل نہیں ہوسکتا۔

ایک طرف کرناٹک ہائی کورٹ میں  کیس کی سماعت شروع  ہوئی  تو وہیں  حجاب کے حق میں اور مخالفت  میں  معاملہ عروج پر پہنچ گیا۔  زبردستی زعفرانی شال  گلے میں لٹکا کر  طلبا نے  اسکول انتظامیہ کو متنبہ کرایا کہ اگر حجاب کے ساتھ طالبات کو کلاسوں میں جانے کی اجازت دی گئی تو پھر ہم بھی  زعفرانی شال کے ساتھ کلاسوں میں داخل ہوں گے۔

عدالت میں بیک  ٹو بیک سماعتوں کے بعد آج منگل 15 مارچ کو ہائی کورٹ کی وسیع بینچ نے فیصلہ سنایا کہ اسکول یونیفارم   آئینی طور پر جائز ہے جس پر طلبہ اعتراض نہیں کر سکتے، عدالت نے یہ بھی کہا کہ حجاب پہننا اسلامی عقیدے کے مطابق  ضروری مذہبی عمل کا حصہ نہیں ہے۔


Share: